اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اردن نے کل ایک مراسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ اراکین سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ مسجد الاقصی پر صہیونی حکومت کے حملے جاری رہنے کے سبب، اس مسجد کو پہنچنے والے نقصان کی بابت اس حکومت سے مواخذہ کریں۔اردن نے اس مراسلے ميں اعلان کیا ہے کہ مسجد الاقصی پر اسرائیل کے حملوں کو بند کرنے کے لئے وہ دیگر قانونی اقدامات کریگا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل مسجد الاقصی پر صیہونیوں کے مسلسل حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے اردن نے تل ابیب سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا تھا۔ اقوام متحدہ میں اردن کے سفیر کا کہنا تھا کہ اردن نے یہ اقدام بغیر کسی تعصب کے کیا ہے اور حرم شریف پر اسرائیلی حملوں کے خلاف وہ ہر طرح کی قانونی کارروائیاں کرنے کرنے کے لیے تیار ہے۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے مسجد الاقصی کے خلاف اسرائیلی حکومت کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کو اسرائیل کی اشتعال انگیزیوں کو رکوانے کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہيئں۔ خیال رہے کہ صیہونی فورسز اور شدت پسند یہودیوں نے مسجد الاقصی میں صہیونی ریاست کی چیرہ دستیوں کے خلاف دھرنا دینے والے فلسطینیوں کو زبردستی اٹھانے کے لیے دھاوا بول دیا تھا۔ مسجد الاقصی کے فلسطینی منتظم عمرالکسوانی نے بتایا ہے کہ پولیس مسجد میں داخل ہوگئی تھی اور اس کے ساتھ جھڑپوں میں بیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
.......
/169